نئی دہلی، 9؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی فسادمعاملہ میں عدالت نے پولس کانسٹبل کی گواہی کو مسترد کرتے ہوئے 9 مسلم ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق دہلی فساد معاملے کی سماعت کرنے والے کرکاڈومہ سیشن عدالت کے جج پولاستیہ پرمچالا نے کہا کہ نو ملزمین کے خلاف نا کافی ثبوت و شواہد اور ناقص تفتیش کی بناء پر بری کردیا جاتا ہے۔ مقدمہ سے بری کرنے والوں کی شناخت محمد شاہنواز شانو، محمد شعیب چھوٹا، شیخ شاہ رخ، شیخ رشید، شیخ آزاد، شیخ اشرف علی، شیخ پرویز، محمد فیصل اور شیخ رشید مونو کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
کرکاڈومہ سیشن عدالت کے جج نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ گواہ استغاثہ پولس کانسٹبل کی گواہی پر یقین نہیں کیا جاسکتا جس نے دوران گواہی کہا تھا کہ اس نے ملزمین کو مشتعل ہجوم میں دیکھا تھا جودکانوں اور گاڑیوں کو جلا رہے تھے۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ اہم گواہ استغاثہ کی جانب سے کوئی صفائی پیش نہیں کی گئی کہ اس نے اتنی اہم معلومات اپنے سینئر افسران کو فراہم کرنے میں تاخیر کیوں کی۔
عدالت نے مزید کہا کہ ملزمین کی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاع ہیڈ کانسٹبل نے کہیں پر بھی تحریری طور پر مہینوں تک درج نہیں کی تھی بلکہ ایک طویل عرصہ گذر جانے کے بعد اس کا اندراج کیا گیا جو بذات خود مشکوک ہوجاتا ہے۔ہیڈ کانسٹبل (گواہ نمبر 9) نے دوران گواہی کہا کہ اس نے زبانی طو ر پر اس کے اعلی افسران کو حادثہ کے بارے میں ہفتہ پندرہ دن بعد مطلع کیا تھا، سینئر افسران کو تاخیر سے معلومات دینے کی وجہ بیان نہیں کی گئی اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سینئر افسران کو تاخیر سے معلومات ملی تھی اس کے باجود سینئر افسران نے اس کا باقاعدہ اندراج نہیں کیا۔عدالت نے کانسٹبل کی گواہی کو خارج کرتے ہوئے ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا۔ اس مقدمہ میں استغاثہ نے کل 10/ سرکاری گواہوں کو عدالت میں ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لیئے پیش کیا تھالیکن عدالت نے ان کی گواہی کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا۔سیشن عدالت نے سیشن مقدمہ نمبر 37/2021 ایف آئی آر نمبر 68/2020 پولس اسٹیشن گوکلپور میں فیصلہ صادر کیا ہے۔
ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147,148,149,436, 427 (فسادات برپا کرنا،گھروں کو نقصان پہنچانا،غیر قانونی طور پر اکھٹا ہونا)اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند(ارشد مدنی) کی جانب سے مقرر کردہ وکیل ظہیر الدین بابر چوہان اور ان کے معاون وکلاء نے الزامات پر بحث کی تھی اور سرکاسری گواہوں سے جرح بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ملزمین کو مقدمہ سے بری کیا گیا۔
ایڈوکیٹ بابر چوہان نے عدالت کو بتایا تھا کہ گواہ استغاثہ نمبر 1,2اور3/ نے استغاثہ کے دعوی کی حمایت نہیں کی تھی بلکہ دوران گواہی وہ اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے تھے، اسی طرح پولس کانسٹبل نے ایک مقدمہ میں انہیں ملزمین کی شناخت نہیں کی لیکن دس منٹ کے بعد دوسرے مقدمہ میں گواہی دیتے ہوئے ملزمین کی شناخت کی جو اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ پولس کانسٹبل کو گواہی دینے سے پہلے تیار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ 92مسلم ملزمان کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کا پینل کل 139 مقدمات دیکھ رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر عدالت نے مسلم نوجوانوں کو مقدمہ سے بری کیا ہے، اس سے قبل بھی دہلی ہائی کورٹ نے چار ملزمین کو مقدمہ شروع ہونے سے قبل ہی ڈسچارج کردیا تھا جبکہ سیشن عدالت نے تین ملزمین کو مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے کے بعد بری کیا تھا۔
دہلی فسادات کی سماعت کرنے کے لئے خصوصی سیشن عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو تیز رفتاری سے مختلف مقدمات کی سماعت کررہی ہے، بیشتر مقدمات میں ملزمین پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے اور گواہوں کے بیانات قلمبند کیئے جارہے ہیں۔